اللہ کی طرف دعوت دینے والے

اس طرح رفتہ رفتہ دعوت کا حلقہ وسیع ہوا۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ ایسے کتنے اجتماعات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب فرمایا۔ کتنے لوگوں سے ان کے گھروں میں جا کر ملاقات کی اور ان کے سامنے دعوت پیش کی۔ دُھن کا عالم یہ تھا کہ جب بھی معلوم ہوا کہ کوئی قافلہ باہر سے آیا ہوا ہے یا کوئی نووارد مکے میں موجود ہے، تو آپ اس کے پاس پہنچ جاتے اور اپنی دعوت پیش فرماتے۔

مغربی ایجنڈے کی راہ میں بڑی رکاوٹ

اس وقت دنیا میں ٹیکنالوجی، دولت اور اسلحہ پر جن قوتوں کی اجارہ داری ہے، وہ یہ سمجھتی ہیں کہ نسل انسانی کی علمی و فکری اور تہذیبی قیادت بھی انہی کا حق ہے۔ اور یہ کہ ان کے علم، فلسفے اور تہذیب کے علاوہ اور کسی علم، فلسفہ و فکر اور ثقافت کو دنیا میں زندہ رہنے اور آگے بڑھنے کا حق حاصل نہیں رہا۔ اس لیے وہ یہ چاہتی ہیں کہ سیاست و معیشت اور عسکریت کے شعبوں کی طرح تعلیم اور تہذیبی میدانوں میں بھی انہی کی بات مانی جائے اور انہی کی ہدایات پر عمل کیا جائے۔

دینی مدارس کا نظام

1857ء میں دہلی پر تاج برطانیہ کی حکومت قائم ہو جانے کے بعد جب متحدہ ہندوستان میں ہمارے صدیوں سے چلے آنے والے نظام تعلیم کو کلیتاً‌ ختم کر دیا گیا اور تمام تر تعلیمی اور تہذیبی نظام کو لپیٹ کر رکھ دیا گیا تو اس وقت تعلیمی محاذ پر دو طبقے سامنے آئے۔ ایک علمائے کرام کا گروہ تھا جس نے مسجد و مدرسہ کو آباد رکھنے کی ذمہ داری قبول کی۔ جبکہ دوسرا گروہ وہ تھا جس نے سائنس، ٹیکنالوجی، اور دیگر علوم میں مسلمانوں کو دوسری اقوام کے برابر لانے کی ذمہ داری قبول کی۔

مسلمانوں کے زوال کا سبب

سب جانتے ہیں کہ عرب اسلام کا پیغام پہنچانے اور دنیا کو خدا کی حکومت میں شامل کرنے کے لیے جب جزیرۃ العرب سے نکلے تھے تو ان کا کیا حال تھا۔ وہ کس قدر جفا کش، سخت کوش، تمدن کے لوازمات اور تکلفات سے کس قدر نا آشنا اور بیگانہ تھے۔ ان کی زندگی کس قدر فقیرانہ اور زاہدانہ بلکہ سپاہیانہ تھی۔ انہوں نے اسلام کے پیغام کی قوت تسخیر اور اپنی اس زندگی کی خصوصیات کے زور سے عظیم سلطنتیں قائم کیں۔

جنگ کا اسلامی تصور

لوگوں کی عقلیں یہ سمجھنے سے قاصر تھیں کہ جب مال و دولت کے لیے جنگ نہ کی جائے، ملک و زمین کے لیے نہ کی جائے، شہرت و ناموری کے لیے نہ کی جائے، حمیت و عصبیت کے لیے نہ کی جائے، تو پھر (وہ ایسی) جنگ کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے جس کو انسان کی خود غرضی اور نفسانیت سے کوئی تعلق نہ ہو۔ لہٰذا داعیٔ اسلام ﷺ نے پہلا کام یہی کیا کہ ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کے معنی اور حدود پوری طرح واضح کر دیے۔

سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی آزادی

جب سورج نصف النہار پر آجاتا اور گرمی کی تپش سے زمین تنور کی مانند گرم ہو جاتی تو حضرت بلال کو مکہ مکرمہ کے کھلے میدان میں لے جایا جاتا اور ننگا کر کے گرم تپتی ریت پر سخت دھوپ میں ہاتھ پاؤں باندھ کر ڈال دیا جاتا۔ اور ایسے گرم پتھر کہ جن پر گوشت بھن جائے، ان کے سینہ مبارک، پشت اور پہلو پر رکھے جاتے۔ پھر جسم پر گرم گرم ریت ڈالی جاتی اور سخت تکلیف دی جاتی۔

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح اور رخصتی

ایک دن حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہم مسجد میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں گفتگو فرما رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اکابرین قریش کی طرف سے حضرت فاطمہ کے لیے بھیجا جانے والا نکاح کا پیغام کسی کے لیے بھی قبول نہیں ہوا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابھی تک پیغام نہیں دیا۔ خیال ہے کہ حضرت علی کے سامنے رکاوٹ صرف مال کی کمی ہے۔

میں دہشت گرد ہوں!

خبر کے ساتھ میرے دہشت گرد ہونے کے ثبوت بھی پیش کیے جائیں گے۔ مثلاً‌ جہاز کے ملبے سے دہشت گرد کا صحیح سلامت پاسپورٹ برآمد ہوا۔ ایئرپورٹ پر نصب کیمروں کے مطابق دہشت گرد بورڈنگ کارڈ لینے کے بعد دو تین دفعہ بے چینی کے عالم میں بریفنگ لاؤنج سے باہر نکلا اور سگریٹ نوشی کرتا رہا۔ اسے دو پاکستانی الوداع کہنے آئے تھے جن کے حلیے دہشت گردوں جیسے تھے، وہ ان کے ساتھ کھسر پھسر کرتا رہا۔

Pages